نئی دہلی23دسمبر(آئی این ایس انڈیا) مرکزی حکومت سے زرعی قوانین واپس لینے کا مطالبہ کرنے والے کسانوں نے آج واضح طورپرکہاہے کہ جب تک حکومت کے ذریعہ کسی ٹھوس ایجنڈے پربات نہیں کی جائے گی،ہم کوئی بات چیت نہیں کریں گے۔ آپ کو کھلے دل سے بات کرنی ہوگی ، ترمیم سے کام نہیں ہوگا۔سماجی کارکن یوگیندر یادو نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہاہے کہ یہ تحریک تمام کسانوں کی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ حکومت کسانوں کو بدنام کررہی ہے۔ حکومت اس تحریک کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت کسانوں کے ساتھ جو رویہ اپنارہی ہے وہ کسانوں کو تحریک تیز کرنے پر مجبور کررہی ہے۔
یوگیندریادونے کہاہے کہ حکومت قانون کی منسوخی جیسے ہمارے بنیادی اعتراضات کو نظرانداز کرتے ہوئے ترمیم کی بات کر رہی ہے۔ حکومت کا خط 20 تاریخ کو موصول ہوا۔ ہمیں ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی ٹھوس تجویزنہیں ملی ہے۔ یوگیندر یادو نے کہاہے کہ ہم ایم ایس پی کے بارے میں حکومت کی تجویزنہیں چاہتے ہیں۔ ہم ایم ایس پی میں قانونی ضمانت کے خواہاں ہیں۔ آپ نے بجلی کے بلوں سے متعلق صورتحال کی وضاحت نہیں کی ہے۔
ہم مذاکرات کے لیے تیارہیں ، لیکن حکومت کو ٹھوس ایجنڈا بناناچاہیے اوراسے بھیجنا چاہے تب ہی ہوگا۔ آپ کو کھلے دل سے بات کرنی ہوگی ، ترمیم سے کام نہیں ہوگا۔ کسان لیڈرشیوکمار کاکڑنے کہاہے کہ حکومت اس کیس کو طول دینا چاہتی ہے۔ حکومت آگ سے کھیل رہی ہے۔ میں متنبہ کرتا ہوں کہ حکومت جلد ہی کسانوں کی بات سن لے۔